جے پور،28/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) ملک کی کئی ریاستیں قدرت کے قہر سے پریشان ہیں۔قدرت کے قہر سے پریشان ریاستوں میں نیا نام اب راجستھان کا جڑ گیا ہے۔پانی کی کمی اور خشک سالی کی وجہ سے بحث میں رہنے والی اس ریاست میں بھاری بارش نے قہر برپا کردیا ہے۔مسلسل تین دنوں سے یہاں ہو رہی بارش نے ریاست کی کئی موسمی دریا میں پانی بھر دیا ہے اور تالاب لبالب بھر گئے ہیں۔بھاری بارش اور اس سے متعلق حادثے میں ریاست میں اب تک 13 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔مرنے والوں میں سیکر سے 6، جے پور سے 4 اور جھنجھنو سے تین لوگ ہیں۔اس بارے میں معلومات ریلیف سیکرٹری آشوتوش پیڈنیکر نے دی۔
ریاست میں ہفتہ کو سب سے زیادہ بارش جے پور شہر اور اس کے پاس چاکسو میں ہوئی۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ابھی ان علاقوں میں بارش جاری رہے گی اور اگلے چوبیس گھنٹے میں ریاست کے کئی حصوں میں بھاری یا بہت بھاری بارش ہو سکتی ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹے میں 10 سینٹی میٹر سے زیادہ بارش مشرقی راجستھان کے بسی میں 21 سینٹی میٹر، چاکسو میں 18 سینٹی میٹر، بھنای میں 17 سینٹی میٹر، بنیڑا میں 15 سینٹی میٹر، کوٹڑی میں 14 سینٹی میٹر، پلسانگ میں 13 سینٹی میٹر، کھاڈر اور سانگانیر میں درج کی گئی ہے۔ونستھلی، نوای، جموارام گڑھ اور فاگی میں 10 سینٹی میٹر بارش ہوئی ہے۔مغربی راجستھان کی بات کریں تو میڑتا سٹی میں 13 سینٹی میٹر، رائے پور متعدد میں نو سینٹی میٹر اور جیتار میں سات سینٹی میٹر بارش ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو جے پور میں 38.8 ملی میٹر اور کوٹہ میں 31.4 ملی میٹر بارش درج ہوئی۔دارالحکومت جے پور میں جمعہ کی رات کے بعد ہفتے کی صبح اور دوپہر میں اچھی خاصی بارش ہوئی۔ریاست میں موسلادھار بارش گزشتہ تین دنوں سے جاری ہے۔اس سے موسمی ندیوں ابال آ گیا ہے اور پرانے تالاب اور چھوٹے ڈیم بھی بھر گئے ہیں۔